جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان جس کا آغاز 1984 میں ہوا اور اس پارٹی کا انتخابی نشان پتنگ ہے، اور تب سے لے کر اب تک اس پارٹی نے کراچی کے لیے بے انتہاء کام کیا جو قابل ِ دید ہے۔
ایم کیو ایم پاکستان کا بنیادی مقصد لوگوں کے اقتصادی اور بنیادی ضروریات کے لیے آواز اٹھانا اور مظلوموں اور کمزوروں کی آواز بننا ہے، جبکہ اختیارات ایم کیو ایم کے پاس بھی انتہائی ناپید رہے ہیں لیکن پھر بھی وہ کراچی کی آواز بن کر ہمیشہ کھڑی ہوئی ہے اس ہی باعث آج بھی کراچی بالخصوص کورنگی کی عوام کا بھروسہ ایم کیو ایم پاکستان پر ہی ہے اور اسی لیے ہمیشہ سے کورنگی میں ایم کیو ایم پاکستان کی جیت ہوئی ہے اور اس مرتبہ تو جیت اور بھی یقینی دکھائی دیتی ہے کیوں کہ اُمیدوار ہی اس قدر عوام دوست اور قابل ہے۔
نجم مرزاایک اعلیٰ تعلیم یافتہ اور اپنے کام میں ماہر شخصیت ہیں جنہیں ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے حلقہ پی ایس 94 سے نامزد کیا گیا ہے۔ نجم مرزا ایم کیو ایم سے کئی عرصے سے وابستہ ہیں ان کا اصل مقصد لوگوں کے مسائل حل کرنا اور ان کو اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کے لیے قوت فراہم کرنا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ عوام صحیح معنوں میں جو وہ حق رکھتے ہیں اس سے دستبردار نہ ہوں بلکہ اس کے لیے آواز اٹھائیں کیونکہ سب جانتے ہیں کہ آج کل ایسا زمانہ ہے کہ جب تک آپ اپنا حق مانگیں گے نہیں تو ملے گا نہیں اسی لیے وہ لوگوں میں اعتماد اور بھروسہ قائم کرنا چاہتے ہیں کہ لوگ اپنے حق کے لیے آواز اٹھائیں
نجم مرزا ایک ایسی عوامی شخصیت ہیں جو کہیں بھی کبھی بھی پائے جاتے ہیں کبھی وہ بس میں مسافرین کے ساتھ دکھائی دیتے ہیں اور کبھی وہ ٹھیلے والے سے بھی بات کرتے نظر آتے ہیں مقصد یہ ہے کہ ان میں ذرا بھی غرور و تکبر نہیں ہے وہ ایک عاجزی پسند انسان ہیں جو لوگوں سے محبت کا جذبہ رکھتے ہیں۔
اس مرتبہ پی ایس 94 سے نجم مرزا کورنگی کے لوگوں کے لیے اپنی آواز اٹھانے اور خدمت کرنے کے لیے پرعزم ہیں اور لوگوں کی وہ تمام مشکلات ختم کرنا چاہتے ہیں جس سے کئی عرصے سے کورنگی کی عوام گزر رہی ہے ۔
نجم مرزا کافی عرصے سے اپنی خدمات ایم کیو ایم کے لیے سرانجام دے رہے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ کورنگی کے لوگ انہیں اتنا حق تو دیں کہ وہ اپنی سوچ اور عقل کے مطابق لوگوں کے معاملات حل کر سکیں اور جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ کوئی عوامی اور شخص ہی ان مسائل کو حل کر سکتا ہے جو ان چیزوں سے گزر رہا ہو اور اس کی زندہ مثال نجم مرزا ہیں۔
